Categories
Uncategorized

حیا!

لغت کے اعتبار سے حیا کا لفظ مصدر ہے۔ اس کی ماضی حَیِییَ ہے۔ یعنی حروف اصلی ” ح، ی اور ی” ہیں۔ اس لئے با حیا بندے کو “رَجُلٌ حَیِیٌ” کہتے ہیں۔
حیا کی صفت تمام انبیاء کے اندر تھی۔ چنانچہ حدیث مبارک میں ہے۔ کہ پہلی شریعتوں میں سے جو چیز دینِ اسلام میں بھی نقل کی گئی وہ یہ ہے کہ:

                  اِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ
         “جب تو بے حیا بن جائے تو جو چاہے کر”

اصطلاحاً حیا بندے کی ایک ایسی کیفیت ہے جو اس کو عیب والے کام سے روکتی ہے۔
       
 تَغَیُّرٌ وَ اِنْکِسَارٌ یَعْتَرِی الْلاِنْسَانَ مِنْ خَوْفِ مَا یُعَابُ بِه
“یہ ایسی کیفیت ہے جو بندے پر چھا جاتی ہے اور اسے عیب والا کوئی کام کرنے سے روکتی ہے۔”

یعنی جس کام میں ذلت ہو، رسوائی ہو، شرمندگی ہو، ایسا کال کرنے سے جو کیفیت بندے کو روک دے، اس کا نام حیا ہے۔


لطف اور مزے کی بات یہ ہے کہ حیا اللہ تبارک و تعالی کی صفات میں سے ہے۔

                اَلْحَیِّیُّ مِنْ صِفَاتَ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ


حیا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حیا فطری ہوتی ہے۔ بعض لوگوں میں زیادہ حیا ہوتی ہے اور بعض میں کم۔ اور دوسری حیا وہ ہوتی ہے جو انسان خود اپنے اندر بڑھا سکتا ہے۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ جتنا انسان گناہ زیادہ کرتا ہے، اتنا ہی اس میں حیا کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

کس چیز سے حیا پیدا ہوتی ہے؟؟

               اَلْحَیَاءُ رُؤْيَةُ الْاَلاَءِ وَ رُؤْيَةُ التَّقْصِیْرِ
“حیا اللہ تعالی کی نعمتوں میں غور کرنا اور اپنے گناہوں کو دیکھنا ہے۔”


ہمارے بزرگوں نے کہا:
                       اَلْحَیَاءُ اَصْلٌ لِّکُلِّ خَیْرٍ
                    “حیا ہر خیر کی اصل ہے۔”

یعنی ہر نیکی، ہر بھلائی اور ہر اچھے کام کی بنیاد حیا پر ہے۔ کیونکہ جو بے حیا انسان ہوتا ہے اسے کسی کی کوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ نہ اسے چھوٹے بڑے کی تمیز۔ نہ ماں باپ کا لحاظ۔
نہ کسی کے دکھ درد کی پروا۔

ارشاد نبوی(ﷺ) ہے کہ:
“حیاء بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔” (بخاری ، مسلم)

ایک اور حدیث میں ہے : “حیاء اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں جب ایک چیزہوگی تو سمجھو دوسری بھی ہوگی۔” (مشکوۃ)


قرآن میں مرد وعورت دونوں کو حیاء کا رویہ اپنانے کا حکم دیاگیا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ (النور30۔31)

“مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔”

ہمیں امام انبیاء(ﷺ) کی سیرت طیبہ کے مطابق شرم وحیا کا پیکر بن کر زندگی بسر کرنی چاہیے ۔
اللہ تعالی ہمیں اپنے رسول مصطفی(ﷺ) کے اصولوں پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
جزاک اللہ🌼

By CaptainShah!🇵🇰

I'm a writer therefore I'm not a sane. 🧚‍♀️

6 replies on “حیا!”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s